اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ماہِ محرم الحرام کی آمد کے موقع پر اسلام آباد میں جامعہ الکوثر کے زیر اہتمام مکتب اہل بیت(ع) کے علما، مبلغین اور خطباء کا سالانہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر سے بڑی تعداد میں دینی شخصیات نے شرکت کی۔
اجلاس کا مقصد محرم الحرام کے دوران علما اور خطباء کے درمیان فکری و علمی ہم آہنگی کو فروغ دینا اور معارفِ اہل بیت(ع) کو صحیح انداز میں عوام تک پہنچانے کے طریقوں کا جائزہ لینا تھا۔
مقررین نے امام حسینؑ کے قیام کے مقاصد، فلسفۂ عزاداری، قرآن کریم کی تعلیمات اور اہل بیتؑ کی سیرت کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پیغامِ کربلا کو ایسے انداز میں پیش کیا جانا چاہیے کہ وہ معاشرے کے تمام طبقات کے لیے قابلِ فہم اور مؤثر ثابت ہو۔
انہوں نے کہا کہ مجالسِ عزاء اسلامی اخلاق، امت کے اتحاد اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے ان اجتماعات کے ذریعے معاشرے میں مثبت اقدار کو فروغ دیا جانا چاہیے۔
اجلاس میں جدید ذرائع ابلاغ کے ذمہ دارانہ استعمال کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ علما نے کہا کہ ان ذرائع کو معارفِ اہل بیت(ع)، اسلامی وحدت اور معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے، جبکہ نفرت انگیزی، فرقہ واریت اور مقدسات کی توہین سے اجتناب کیا جائے۔
شرکاء نے عزاداری کے اجتماعات سے متعلق بعض انتظامی مسائل پر بھی گفتگو کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ مذہبی حقوق کے تحفظ اور دیگر معاملات کے حل کے لیے آئینی، قانونی اور پرامن راستہ اختیار کیا جائے۔
اجلاس کے اختتام پر شیعہ علما کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماہِ محرم امت کی بیداری، معاشرتی اصلاح اور اسلامی اقدار کے احیاء کا عظیم موقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ امام حسینؑ کی سیرت اور پیغامِ عاشورا کو اس انداز میں عام کیا جانا چاہیے کہ معاشرے کا ہر طبقہ اس سے رہنمائی حاصل کر سکے۔ ان کے بقول حسینی پیغام دراصل انسانیت، عدل، آزادی، وحدت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا پیغام ہے، جسے موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق وسیع پیمانے پر عام کرنے کی ضرورت ہے۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے عالمِ اسلام کے اتحاد، امن و سلامتی، بین المذاہب ہم آہنگی اور حضرت امام حسینؑ کی عزاداری کے پرامن اور شایانِ شان انعقاد کے لیے خصوصی دعا کی۔
آپ کا تبصرہ